نئی دہلی، 5 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا عام بجٹ جمعہ کو پیش کر دیا۔اس بجٹ میں خواتین سے لے کر گھر کی خریداری پر رعایت جیسے اعلان کیے گئے، لیکن انکم ٹیکس سلیب میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،ساتھ ہی پٹرول-ڈیزل پر 1 روپے سیس بڑھا دیا گیا ہے۔اس بجٹ پر اقتصادی ماہر سنیل الکھ نے بتایا کہ انہیں اس بجٹ سے بہت مایوسی ہوئی۔اس بجٹ سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔بجٹ تقریر میں نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ ایمانداری سے ٹیکس دینے والوں کا حکومت احترام کرتی ہے اور ان کا شکریہ اداکرتی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ براہ راست ٹیکس آمدنی گزشتہ چند سالوں میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے،باوجود اس کے بجٹ میں ٹیکس اداکنندگان کے لئے کسی قسم کی رعایت کی تجویز نہیں دی گئی۔دوسری طرف کارپوریٹ ٹیکس کی حد میں تبدیلی کی گئی ہے۔250 کروڑ کے سالانہ ٹرن اوور والی کمپنیوں کا دائرہ بڑھا کر 400 کروڑ سالانہ ٹرن اوور تک کر دیا گیا ہے،ان کمپنیوں پر 25 فیصد کارپوریٹ ٹیکس لگایا جائے گا۔وہیں اب 2 سے 5 کروڑ روپے سالانہ کمانے والوں کو 3 فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔اس کے علاوہ 5 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدنی والوں کو 7 فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔سینئر صحافی آشوتوش نے کہا کہ 5 ٹریلین ڈالر معیشت پر پہنچنا ہے تو اس بجٹ کے اندر تبدیلی ہونے چاہئے تھی، لیکن ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔وہیں ماہرمعاشیات امت رانا نے بتایا کہ ٹیکس پر کافی امید تھی لیکن ویسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔رہیجا گروپ کے چیئرمین نوین رہیجا نے ہوم لون پر ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھانے کے فیصلے کو بہت بڑا فیصلہ قرار دیا ہے،اگلے نو ماہ میں جو لوگ گھر خریدیں، انہیں پہلی بار ایسا موقع ملے گا۔ریڈکس ہسپتال کے صدر اور انتظامیہ ڈائریکٹر روی ملک نے بتایا کہ صحت سیکٹر کے بارے میں کچھ نہیں بولا گیا،یہاں تک کہ میں ایک حرف بھی نہیں لکھ پایا۔روی ملک نے نئے ایمس کی امید بھی ظاہر کی تھی، لیکن اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا گیا۔